آنگن کے رشتے – بچوں کے لیے سبق آموز اردو کہانی | Aangan Ke Rishte Urdu Story for Kids
ارشد نے کہا: ”کیا کبھی کھلونوں کے ٹوٹنے سے انسان بھی ٹوٹ جاتا ہے؟“
شہزاد ایک ہی سانس میں بولنے لگا: نہیں …. دوست ! کھلونے تو بس جذبات سے جڑے ہوتے ہیں اور زندگی کے لئے جذبات سے ضروری عملی بننے کی ہوتی ہے۔“
ارشد نے کہا: ” جذبات کا بکھرنا بھی کہیں دکھائی دیتا ہے؟“
ارے دوست! یہ تو ایک اندرونی احساس کا نام ہے جسے ہم دل میں بنتے بکھرتے صرف محسوس کر سکتے ہیں۔ سنو! آج میں نے ایک کہانی اُمنگ کے لئے لکھی ہے ۔“
کیسی کہانی ؟
” واہ اب تم کہانی بھی لکھنے لگے ہو؟“
یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔“
لو! کہانی شروع ہوتی ہے …!
اُس نے کرسی کے دستے کو پکڑ کر خود کو کسی طرح سنبھالا ۔
Urdu story Badshah Ladka or Khandaq | بادشاہ لڑکا اور خندق
ایسا معلوم ہورہا تھا کہ وہ غش کھا کر گر پڑے گا۔ آنکھوں کے سامنے تاریکی چھانے لگی تھی تبھی اندر سے آواز سنائی دی جیسے کوئی کہہ رہا ہو : ”بس مقابلہ کر چکے خود سے تم !}}
وہ ان سوالوں کا جواب دینا چاہتا تھا جس نے برسوں سے اسے اپنے حصار میں قید کر رکھا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ کہنے کے لئے وقت کم ہے، آخر وہ کہے بھی تو کس سے؟
کاش! کوئی اس کی باتوں کو سننے کو راضی ہو جائے۔ درد بڑھتا ہی جارہا تھا۔ تبھی اسے محسوس ہوا کہ اس سے کوئی کہہ رہا ہے، اتنی جلدی شکست خوردہ ہو گئے؟ اس نے آنکھیں کھول کر اندرون میں جھانکنے کی کوشش کی ، یہ تو اس کے کھلونا’ فوج کے ٹینک کا سپاہی تھا۔
درد کے باوجود وہ مسکرایا… واقعی تم جانباز ، بہادر ہو۔
سپاہی نے کہا: ہاں دوست ! تمہیں تو بچپن سے جانتا ہوں۔ تمہیں یاد ہے میرے ہاتھ ٹوٹ گئے تھے اور پھر بھی میں نے بہار قبول نہیں کی۔ جب جسم سے ٹوٹا آدمی نہیں ہارتا ، ہاں ! جس دن تم دل سے ہمت چھوڑ دو گے تو اس دن سچ سچ ہار جاؤ گے ۔ اُمنگ (حوصلہ ) کے ساتھ جینا سیکھو۔ یہ ہار زندگی کی ہار ہوگی ۔ زندگی ایک بار ملتی ہے، یہ آدمی کے اوپر ہے کہ وہ زندگی کو کامیاب بنا تا ہے یا نا کام !!
اٹھو! تمہیں اپنی بات کہنے کے لئے ابھی تو اور جینا ہے، اسکول کالج جانا ہے۔ اُسے محسوس ہوا کہ دل کا درد کم ہو رہا ہے، کوئی تو ہے جو اسے پیار سے سمجھا رہا ہے۔ زندگی میں جلدی ہار نہیں مانتے ، اب اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہو گئے تھے۔
اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ رات سیاہ ہو چکی تھی ۔ صرف برآمدے میں بلب ٹمٹما رہا تھا ، آج اسے اپنا کھلونے والا سپاہی یاد آیا۔ اسے بھی اپنا محبوب سپاہی بہت پیارا تھا۔ ہر وقت ہاتھ میں دبائے گھر آنگن میں دوڑتا رہتا اور رات میں بھی سرہانے رکھ کر اسے محسوس کرتا ہوا سو جاتا تھا۔ جب تک یہ سپاہی اس کے ساتھ ہے کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔
ایک دن چھوٹے بھائی نے کھیل کھیل میں سپاہی کو دیوار پر دے مارا۔ سپاہی کے ہاتھ ٹوٹ گئے۔ بھائی جیت گیا تھا اور وہ سپاہی کا باز و توڑ کر خود کو فاتح سمجھ رہا تھا۔ تب اس نے روتے ہوئے بھائی کی شکایت اپنے باپ سے کی تو وہ بولے آپس میں نبٹارہ کر لو۔ چھوٹا بھائی ہی تو ہے، اسے بھی اچھل کود کرنے کا حق ہے۔ کیا تم نے اللہ کے رسول کا وہ فرمان نہیں سنا ہے کہ چھوٹوں سے شفقت سے پیش آؤ ، ہاں تم بڑے ہونا ! اسے معاف کر دینا چاہئے۔
بھائی کو روتا بلکتا دیکھ کر وہ بولا : بھائی آپ بھی میرا کھلونا توڑ دیں بات ایک جیسی ہو جائے گی ۔ اب اس نے کہا کوئی بات نہیں بھائی جان! میں اس کے ہاتھ جوڑ دوں گا، مگر تمہارا کھلونا نہیں توڑوں گا۔ بھلا ہمارے کھلونے توڑنے سے میرے سپاہی کا ہاتھ تو نہیں جڑے گا…؟
کیا تم نے اپنے نصاب کی بک میں وہ کہانی (STORY) پڑھی ہے جس میں راجہ نے تیر سے گھائل ہنس کو اس راج کمار کے حوالے کر دیا ، جس نے اسے زخمی ہونے سے بچا لیا اور اسے نہیں دیا جس نے تیر کا نشانہ بنا کر زمین پر گرادیا تھا۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ مارنے والے سے بچانے والے کا حق زیادہ ہوتا ہے۔
ہاں ! تم سچ کہہ رہے ہو …۔
اف ! پھر ایک لہرسی اٹھی۔ بڑے بھائی کو مکان چاہئے تھا اور اس نے رشتوں کو کھلونے کی طرح ہی توڑ دیا۔ یہ عجیب بات ہے۔ وہ ہمیشہ ہی صحیح راستے پر چلتا ہے۔ اصول کا خیال رکھتا ہے اور سب کے سب اس سے ناراض ہو جاتے ہیں وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ اچانک پھر اسے بھی کوئی سپاہی جینے کی طاقت دیتا ہے۔ تبھی پرانی بات یاد کر کے اسے ہنسی آگئی ۔ اس دن وہ خوشی تقسیم کرنے کے لئے گھر میں ساز بجارہا تھا کہ اندر سے آواز آئی:
پلیز! ایه سازمت بجایا کرو۔ تمہیں بھلے ہی سرسنگم وائلن سے خوشی ملتی ہو مگر آس پڑوس سے لے کر گھر کے سبھی لوگ تمہارے اس وائکن کے بجنے سے ڈسٹرب ہو جاتے ہیں ۔ اتنا سنتے ہی اس کا ہاتھ پھیلا اور وائکن کا تار ٹوٹ گیا۔ ہاں کتنے ایسے حادثے اس کی زندگی سے جڑے ہیں۔ زندگی کے رشتوں کے بکھرنے پر وہ صحیح سلامت ہے۔ بھلا کھلونے کے ٹوٹنے سے کہیں آدمی ٹوٹتا ہے؟ “
اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس میں پانی انڈیل کر پینے لگا۔ جوں جوں پانی کا گھونٹ اس کے حلق سے نیچے اترتا اسے لگتا طبیعت بہتر ہو رہی ہے۔ اب وہ سارے گلے شکوے دور کرتے ہوئے صحیح سوچ پر لوٹ آیا تھا۔ ” آنگن کے رشتے سب کچھ ہوتے ہیں۔ بھائی کو گلے لگاتے ہوئے کہنے لگا : ” بھائی تم تو میرے اپنے بھائی ہو۔۔۔“
Also Read Another story : Urdu story Badshah Ladka or Khandaq | بادشاہ لڑکا اور خندق
Follow our facbeook page : DigitalUrdu
Subscribe our youtube chnnel : DigitalUrdu