7 Best Urdu shayari of Allama Iqbal

7 Best Urdu shayari of Allama Iqbal | علامہ اقبال کی بہترین شاعری اور دوسرے شعرا کی بھی

7 Best Urdu shayari of Allama Iqbal and Other famous shayar 

 علامہ اقبال کی بہترین7 شاعری اور دوسرے شعرا کی بھی  

1-

سنا تھا فرشتے جان لیتے ہیں خیر اب چھوڑو انسان لیتے ہیں  
میں اس شہر منافق سے تنگ آگیا ہوں آؤ کسی گاؤں میں کچا مکان لیتے ہیں

بخشش ہے جب تیرے اختیار میں خدایا تو پھر کیوں اتنے لوگ امتحان لیتے ہیں

2- –

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی خزانے تجھے ممکن ہے خوابوں میں ملیں

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پر کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز ہیے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

احمد فراز

3- —

رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جان جاناں ہو گئے

دن بدن بڑھتی گئیں اس حسن کی رعنائیاں پہلے گل پھر گلبدن پھر گل بداماں ہو گئے

آپ تو نزدیک سے نزدیک تر آتے گئے پہلے دل پھر دلربا پھر دل کے مہماں ہو گئے

پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے آپ سے پھر تم ہوئے پھر تو کا عنواں ہو گئے

 —-4

شاعر کہتا ہے ؟ – 

علم اگر بے عمل ہو تو زہر ہے انسان کے لیے عمل ہو ساتھ تو یہ نور ہے ایمان کے لیے

کتاب دل کو پڑھ ، لفظوں میں مت الجھ جا حقیقت وہ ہے جو روشن کرے وجدان کے لیے

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی یہ خاک اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اُٹھا وہ علم جو پیدا کرے جذبۂ عمل دل میں یہی تو اقبال کا پیغام ہے انسان کے لیے

5 —–

کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا

زندگی ہم پہ یہ آسان بھی ہو سکتی تھی سیکھ لیتے جو جو کسی در درد کا چارہ کرنا

کہاں جاتے ہو ابھی ساتھ گزارو کچھ دن ہم پہ مشکل کوئی آئے تو کنارہ کرنا

کتنا مشکل ہے جلانا کسی رستے میں چراغ کتنا آسان ہے ہواوں کو اشارہ کرنا

زندگی ہم تو چلو مان کئے سہہ بھی کئے ایسا برتاؤ کسی سے نہ دوبارہ کرنا.

6 —— 

علامہ اقبال

چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض مت ہوا کر

غلطی اگر ہو جائے تو معاف کر دیا کرو

ارے ناراض تب ہونا جب ہم رشتہ توڑ دے

اور ایسا تب ہوگا

جب ہم دنیا چھوڑ دیں

7 ——- 

عرض کیا ہے ۔۔

وہ رستے ترک کرتا ہوں وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں

جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو

غموں میں ڈوب جاتا ہوں وہ سائل چھوڑ دیتا ہوں

مجھے مانگے ہوئے سائے ہمیشہ دھوپ لگتے ہے

میں سورج کے گلے پڑھتا ہوں وہ بادل چھوڑ دیتا ہوں

Leave a Comment