Bathe with cold water or warm water in winter

Bathe with cold water or warm water in winter. | سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے نہائے یا گرم پانی سے

Bathe with cold water or warm water in winter. | سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے نہائے یا گرم پانی سے
کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف نہانے کے پانی کا درجہ حرارت بدلنے سے آپ کی توانائی، نیند، پٹھوں کی صحت اور ذہنی سکون تک تبدیل ہو سکتا ہے؟ یہ حقیقت اکثر لوگ جانتے ہی نہیں۔
ہم روز نہاتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی غور کرتے ہیں کہ پانی کی گرمی یا ٹھنڈک ہمارے جسم کے اندر کیا کچھ بدل رہی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہانے کا درجہ حرارت آپ کے اعصاب، دل کی دھڑکن، دورانِ خون، جلد، پٹھوں اور ذہنی کیفیت تک کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کہ آپ نے ٹھنڈا پانی استعمال کرنا ہے یا گرم پانی—صرف عادت نہیں بلکہ ایک سائنسی انتخاب ہے۔
گرم پانی جسم کو فوری طور پر آرام کی حالت میں لے جاتا ہے۔ یہ parasympathetic nervous system کو فعال کرتا ہے، جس سے پٹھوں کی سختی کم ہوتی ہے، درد میں آرام ملتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے۔ گرم پانی کی حرارت جسم کی گہرائی میں اترتی ہے، مسلز کو ڈھیلا کرتی ہے اور سوزش میں نمایاں کمی لاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دن بھر کی تھکن کے بعد گرم پانی سے نہانا ذہنی اور جسمانی سکون دیتا ہے۔ سائنسی تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سونے سے پہلے گرم پانی سے نہانے سے جسم کا درجہ حرارت قدرتی طور پر منظم ہوتا ہے، جس سے نیند کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے اور نیند جلد آتی ہے۔ اس طرح گرم پانی نہ صرف جسم کو آرام دیتا ہے بلکہ ذہن کو بھی نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔
اس کے برعکس، ٹھنڈا پانی جسم کو فوری طور پر alert کرنے والا اثر رکھتا ہے۔ ٹھنڈا پانی sympathetic nervous system کو فعال کرتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور دماغ زیادہ چوکنا ہو جاتا ہے۔ کچھ شواہد بتاتے ہیں کہ ٹھنڈا پانی norepinephrine کی سطح بڑھا کر mood اور توانائی بہتر بناتا ہے، سوزش کم کرتا ہے اور ورزش کے بعد recovery میں مدد دیتا ہے۔ ٹھنڈا پانی جسم کے immune system کو بھی stimulate کرسکتا ہے، جس سے white blood cells کی فعالیت بہتر ہوتی ہے اور جسم بیماریوں سے زیادہ مؤثر طریقے سے لڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایتھلیٹس ٹھنڈے پانی کو اپنے recovery پروٹوکول کا حصہ بناتے ہیں۔
مگر جب موسم سرد ہو تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے نہانا جسم کے core temperature کو اچانک کم کر دیتا ہے، اور یہ اچانک drop جسم کے لیے stress پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سردی لگنا، پٹھوں کی گرفت بڑھ جانا، جوڑوں میں تکلیف ہونا، blood pressure میں اچانک تبدیلی اور immune system کا عارضی طور پر کمزور ہونا جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ سردیوں میں ٹھنڈا پانی جسم پر thermal shock ڈالتا ہے، جسے برداشـت کرنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پہلے ہی muscular pain، asthma، migraine یا poor circulation کا شکار ہوں۔
اسی لیے سردیوں کے ماحول میں بہترین انتخاب تازہ یا گرم پانی ہے۔ یہ جسم کو محفوظ حد میں رکھتا ہے، حرارت کو متوازن کرتا ہے، پٹھوں کو آرام دیتا ہے اور ذہنی تناؤ کم کرتا ہے۔ گرم یا تازہ پانی جسم کی فطری گرمی برقرار رکھتا ہے، جس سے نہانے کے بعد تھکن کم ہوتی ہے، joints بہتر محسوس کرتے ہیں اور جسم موسم کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈا پانی نہ صرف غیر ضروری دباؤ ڈال سکتا ہے بلکہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے دانشمندی یہی ہے کہ موسم کے مطابق پانی کا انتخاب کیا جائے۔
مختصر یہ کہ نہانے کا پانی صرف صفائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تھرمل محرک ہے جو پورے جسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ گرم پانی سکون دیتا ہے، درد کم کرتا ہے اور نیند بہتر بناتا ہے، جبکہ ٹھنڈا پانی alertness، تازگی اور سوزش میں کمی لاتا ہے۔ مگر سردیوں میں ٹھنڈا پانی جسم پر دباؤ ڈالتا ہے، اس لیے گرم یا تازہ پانی ہی بہترین اور صحت بخش انتخاب ہے

Leave a Comment