خوفناک وادی چڑیلوں کی کہانی
چاندنی رات تھی، مگر اس کی روشنی میں بھی ایک عجیب سی ویرانی چھپی ہوئی تھی۔ پہاڑوں کے درمیان واقع گاؤں کالاپور دن میں عام سا لگتا تھا، مگر رات ہوتے ہی اس کی فضا بدل جاتی۔ لوگ اپنے دروازے بند کر لیتے، چراغ بجھا دیتے اور سانس تک آہستہ لیتے، کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب چڑیلیں جاگتی ہیں۔
کہا جاتا تھا کہ کالاپور کے پیچھے ایک وادی ہے جسے چڑیلوں کی وادی کہا جاتا ہے۔ وہاں نہ کوئی پرندہ اڑتا تھا، نہ درختوں پر پتے سرسراہتے تھے۔ جو بھی اس وادی میں گیا، وہ یا تو کبھی واپس نہیں آیا، یا واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں ایسا خوف ہوتا کہ وہ بولنے کے قابل نہ رہتا۔
گاؤں میں ایک نوجوان لڑکا رہتا تھا جس کا نام سلیم تھا۔ سلیم بہادر تھا، مگر نادان بھی۔ وہ ہمیشہ بزرگوں کی باتوں کو کہانیاں سمجھتا۔ جب لوگ چڑیلوں کا ذکر کرتے تو وہ ہنس کر کہتا،
“یہ سب وہم ہے، ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔”
ایک رات، جب آسمان پر کالا بادل چھایا ہوا تھا اور ہوا میں عجیب سی سرسراہٹ تھی، سلیم نے فیصلہ کیا کہ وہ خود چڑیلوں کی وادی جا کر حقیقت جانچ کر آئے گا۔ اس کی ماں نے اسے بہت روکا، مگر سلیم نہ مانا۔ وہ ایک لالٹین لے کر خاموشی سے گھر سے نکل پڑا۔
جیسے ہی وہ وادی کے قریب پہنچا، ہوا سرد ہو گئی۔ درختوں کے سائے انسانوں جیسے لگنے لگے۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے پیچھے چل رہا ہو۔ اس نے مڑ کر دیکھا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھتا رہا۔
وادی کے بیچوں بیچ ایک پرانا کھنڈر تھا۔ اس کی دیواریں کالی تھیں اور دروازہ خود بخود چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی لالٹین کی روشنی کانپنے لگی۔ اسی لمحے ایک خوفناک ہنسی گونجی،
“ہا ہا ہا… انسان یہاں خود چل کر آیا ہے!”
سلیم کے سامنے تین چڑیلیں نمودار ہوئیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے، آنکھیں سرخ اور ناخن خون کی طرح لمبے تھے۔ ان کی آوازیں ایک ساتھ گونج رہی تھیں۔
“ہمیں انسانوں کا گوشت بہت پسند ہے۔”
سلیم نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر اس کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ ایک چڑیل آگے بڑھی اور اس کے کان میں سرگوشی کی،
“ڈر کی خوشبو آ رہی ہے… تم بہت مزیدار ہو گے۔”
اچانک سلیم کو اپنی دادی کی بات یاد آئی، جو کہا کرتی تھیں کہ چڑیلیں اللہ کا نام سن کر کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس نے پوری طاقت سے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ چڑیلیں چیخنے لگیں، ان کے چہرے بگڑنے لگے اور وہ پیچھے ہٹنے لگیں۔
غصے میں ایک چڑیل نے سلیم پر جادو پھینکا، مگر اسی وقت زور دار روشنی پھیلی اور وادی لرزنے لگی۔ چڑیلیں دھواں بن کر غائب ہو گئیں۔ سلیم زمین پر گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا۔
جب صبح ہوئی تو گاؤں والوں نے سلیم کو وادی کے کنارے پایا۔ وہ زندہ تھا، مگر اس کے بال سفید ہو چکے تھے۔ آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے بس اتنا کہا،
“وہ سب سچ تھا… چڑیلیں واقعی موجود ہیں۔”
اس دن کے بعد کالاپور میں کوئی بھی شخص رات کے وقت گھر سے باہر نہیں نکلا۔ چڑیلوں کی وادی آج بھی ویسی ہی ہے، خاموش، تاریک اور خوف سے بھری ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آج بھی چاندنی راتوں میں وہاں سے ہنسی کی آوازیں آتی ہیں، اور جو سن لے، وہ زندگی بھر نہیں بھول پاتا۔
اور اگر کبھی آپ نے رات کے سناٹے میں کسی عورت کی ہنسی سنی ہو… تو یاد رکھیں، شاید وہ چڑیل ہو جو آپ کو پکار رہی ہے۔
مزید کہانی پڑھے : عزم کا نخلستان:1 محنت اور کامیابی کی حیرت انگیز کہانی